ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کورونا ویکسین کے لئے آج پھر بھٹکل سرکاری اسپتال میں اُمڈ پڑی بھیڑ؛ اے سی ، تحصیلدار اور پولس آفسران کی آمد کے بعد پایا گیا عوام پر قابو

کورونا ویکسین کے لئے آج پھر بھٹکل سرکاری اسپتال میں اُمڈ پڑی بھیڑ؛ اے سی ، تحصیلدار اور پولس آفسران کی آمد کے بعد پایا گیا عوام پر قابو

Sat, 05 Jun 2021 14:05:54    S.O. News Service

بھٹکل 5 جون (ایس او نیوز)  بھٹکل میں جمعہ کی دوپہر کے بعد آج سنیچر صبح پھر ایک بار سرکاری اسپتال  میں  کورونا کاٹیکہ لگوانے کے لئے عوام کی بھیڑ اُمڈ پڑی، سماجی فاصلہ اور  کووڈ گائیڈلائن  کو نظر انداز کرتے ہوئے لوگ   لمبی قطاروں میں کھڑے نظر آنے کےبعد  عوام پر قابو پانے کے لئے پہلے پولس حکام نے  کوشش کی، پھر اسسٹنٹ کمشنر اور تحصیلدار نے جائے وقوع پر پہنچ کر آدھے سے زائد  لوگوں کو واپس جانے پر مائل کردیا۔

جمعہ کو  کسی نے سوشیل میڈیا پر ایک مسیج وائرل کیا تھا جس میں بتایا گیا تھا کہ  45 سے زائد عمر والوں کو   بھٹکل سرکاری اسپتال میں  کورونا ویکسین دی جارہی ہے ، جس کے بعد سینکڑوں لوگ  اسپتال میں جمع ہوگئے تھے، بعد میں کافی لوگوں کو واپس بھیج کر آج سنیچر کو آنے کے لئے  کہا گیا تھا۔

بھٹکل سرکاری اسپتال کی عمارت چونکہ  کووڈ وارڈ میں تبدیل کی گئی ہے اور دیگر مریضوں کو اسپتال کے بالمقابل  واقع ایک ہوسٹل والی عمارت میں منتقل کیا گیا ہے، اس بناء پر کورونا ویکسین بھی  اُسی ہوسٹل والی عمارت میں دینے کا انتظام کیا گیا ہے۔ یہاں پہلے مالہ پر 45 سے زائد عمر والوں کو ویکسین دی جارہی ہے جبکہ دوسرے مالہ پر  18 سال سے زائد عمر والے اُن لوگوں کو ویکسین دینے کا نظم کیا گیا ہے جن کو  الگ الگ زمروں کے تحت   رکھا گیا ہے اور ہر روز الگ الگ زمرے کے لوگوں کو ویکسین کےلئے بلایا جارہا ہے۔  مثلا جمعہ کو پنچایت اہلکاروں سمیت بینک کے  اہلکاروں  کو ویکسین   لگانے   کا انتظام کیا گیا تھا، اسی طرح آج سنیچر کو   معذوروں کو ویکسین   لگانے کے لئے بلایا گیا تھا۔

سنیچر کو صبح نو بجتے ہی   عمارت کے پہلے مالہ پر عوام کی بھیڑ جمع ہوگئی ،  پہلے پولس کی مدد سے عوام پر قابو پانے کی کوشش کی گئی اور قریب ڈیڑھ سو  لوگوں کو ٹوکن تقسیم کرتے ہوئے باقی لوگوں کو   واپس   جانے کے لئے کہا گیا، مگر لوگوں کا کہنا تھا کہ وہ دس اور پندرہ کلومیٹر دور ددراز والے دیہاتوں سے  آئے ہیں، واپس نہیں جائیں گے۔  ایسے میں  قطاروں میں کھڑے  لوگوں کے لئے کوودڈ ہدایات بالخصوص سماجی فاصلہ  پر عمل کرنا  ممکن نہیں تھا،  کیونکہ  عمارت کے اندر  پاوں دھرنے کو جگہ نہیں تھی، اور  دوریاں  بناکر کھڑے ہونے کے لئے  جگہ نہیں تھی۔ ابتداء میں  خاتون پی ایس آئی سوما اپنے عملہ کے ساتھ   عوامی بھیڑ پر قابو پانے کی کوشش کی۔ پھر  بھٹکل تحصیلدار ایس روی چندرا ،  اسسٹنٹ کمشنر  ممتا دیوی، بھٹکل تعلقہ ہیلتھ آفسر  ڈاکٹر مورتی راج بھٹ،  سرکل پولس انسپکٹر دیواکر ، پی ایس آئی ہنومنتا  کوڈگُنٹی     و دیگر کافی  اہلکار   موقع پر پہنچ گئے۔ جنہوں نے  اُن لوگوں کو واپس جانے کے لئے کہا جنہیں ٹوکن نہیں ملا تھا۔ ایسے میں کافی لوگ واپس چلے گئے، البتہ دیگر کافی لوگ  عمارت کے نیچے اور باہر جاکر کھڑے ہوگئے۔ بعد میں    نچلے فلور پر جمع لوگوں کے نام  رجسٹرڈ بُک میں درج کراتے ہوئے اُنہیں  دوپہر  ڈھائی بجے آنے کے لئے کہا گیا ۔

ابتداء میں ہوسٹل کے پہلے مالہ پر ہی ٹیکہ کا  کام جاری تھا ایک کمرے میں 45 سے زائد عمر والے  لوگوں کے لئے اور دوسرے کمرے میں 18 سال سے زائد عمر والوں کے لئے ویکسین لگوائے جارہے تھے، مگر اسسٹنٹ کمشنر اور دیگر آفسران  کے آنے کے بعد  45 سال سے زائد عمر والوں کے لئے پہلے مالہ پر اور 18 سال سے زائد عمر والوں کے لئے سکینڈ فلور پر  کورونا  ٹیکہ لگوانے کا انتظام کیا گیا۔ دوسرے مالہ پر 18 سال سے زائد عمر والے  معذور لوگوں  اور اُن بینک اہلکاروں کو  ٹیکہ لگوایا گیا جنہیں جمعہ کی شام کو  بھیڑ زیادہ ہونے پر واپس بھیجا گیا تھا اور اُن کے نام رجسٹرڈ بُک پر درج کرکے آج  سنیچر صبح  اُنہیں آنے کے لئے کہا گیا تھا۔    یہاں پر بھی قریب  ڈیڑھ سو لوگوں کو ٹوکن دئے گئے تھے۔

پولس انسپکٹر کی انسانیت نوازی:   کافی زیادہ بھیڑ کے دوران پولس انسپکٹر کی انسانیت  نوازی کی بھی ایک مثال  سامنے آئی  جب ایک معذور خاتون نے  پولس انسپکٹر دیواکر کو بتایا کہ اُس کا معذور بیٹا   گراونڈ فلور پر ہے اور وہ  دو  گھنٹوں  سے کورونا کا ٹیکہ لگوانے  اوپر سے نیچے  چکر کاٹ رہی ہے اور پتہ  لگانے کی کوشش کررہی ہے کہ اُسے اور اس کے  بیٹے کو  ٹیکہ لگانے  کہاں  جانا ہے، پولس انسپکٹر دیواکر  اُس خاتون کے ساتھ   گراونڈ فلور پہنچے اور اُس کے بیٹے  کو کندھوں پر     اُٹھاتے ہوئے خاتون کو ساتھ لے کر ہی   سکینڈ فلور پر پہنچے اور خاتون کو ٹیکہ کرایا  ، مگر اُنہیں  بتایا گیا کہ لڑکے کی عمر کم ہے اور اُسے ٹیکہ نہیں لگوایا جاسکتا،  جس کے بعد خاتون کے ساتھ پولس انسپکٹر   اُس  کے لڑکے کو  واپس    کندھوں پر اُٹھا کر  نیچے آئے اور عمارت کے باہر لے جاکر چھو ڑ دیا۔

 


Share: